رباعی شمارهٔ 1566
Toggle stanza 1در کوی خیال خود چه میپویی تو
11
در کوی خیال خود چه میپویی تو
وین دیده به خون دل چه میشویی تو
22
از فرق سرت تا به قدم حق دارد
ای بیخبر از خویش چه میجویی تو
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

