رباعی شمارهٔ 1566

Toggle stanza 1
در کوی خیال خود چه می‌پویی تو
1

در کوی خیال خود چه می‌پویی تو

وین دیده به خون دل چه می‌شویی تو

2

از فرق سرت تا به قدم حق دارد

ای بی‌خبر از خویش چه می‌جویی تو

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…