رباعی شمارهٔ 1413
Toggle stanza 1ای سنگ ز سودای لبت آبستان
11
ای سنگ ز سودای لبت آبستان
از سنگ برون کشی تو مکر و دستان
22
آنجام چو جانیکه بدان کف داری
از بهر خدا از کف مستان مستان
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

