رباعی شمارهٔ 1474

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یان

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
دوشست دیدم یار جدائی جویان
1

دوشست دیدم یار جدائی جویان

با من به جفا و کین جدا شو گریان

2

امروز چنانم که جدا گشته ز جان

رخسارهٔ خود به خون فرقت شویان

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…