رباعی شمارهٔ 1400
Toggle stanza 1ای خورده مرا جگر برای دگران
11
ای خورده مرا جگر برای دگران
دانم که همین کنی برای دگران
22
من باد رهی بدم تو راهم دادی
من رستم از این واقعه وای دگران
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

