رباعی شمارهٔ 852
Toggle stanza 1هر لقمهٔ خوش که بر دهان میگردد
11
هر لقمهٔ خوش که بر دهان میگردد
میجوشد و صافش همه جان میگردد
22
خورشید و مه و فلک از آن میگردد
تا هرچه نهان بود عیان میگردد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

