رباعی شمارهٔ 887
Toggle stanza 1تا بتوانی مدام میباش به ذکر
11
تا بتوانی مدام میباش به ذکر
کز ذکر ترا راه نمایند به فکر
22
محرم چو شدی در حرم اجلالش
بینی به یقین جمال معشوقهٔ بکر
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

