رباعی شمارهٔ 1209

Toggle stanza 1
چون مار ز افسون کسی می‌پیچم
1

چون مار ز افسون کسی می‌پیچم

چون طرهٔ جعد یار پیچاپیچم

2

والله که ندانم این چه پیچاپیچست

این میدانم که چون نپیچم هیچم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…