Toggle stanza 1
به دست هجر تو زارم تو نیز می‌دانی
1

به دست هجر تو زارم تو نیز می‌دانی

طمع به وصل تو دارم، تو نیز می‌دانی

2

چو در دل آمد عشق تو و قرار گرفت

نماند صبر و قرارم، تو نیز می‌دانی

3

نهفته شد گل و بلبل پرید از چمنم

به درد خستهٔ خارم، تو نیز می‌دانی

4

به ناله باز سپیدم به سان فاخته شد

به کوهسار چو سارم، تو نیز می‌دانی

5

انار بودم خندان، بر آن عقیق لبت

کنون چو شعلهٔ نارم، تو نیز می‌دانی

6

انار عشق تو بوده‌ست شمس تبریزی

که برد بر سر دارم، تو نیز می‌دانی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…