رباعی شمارهٔ 1305

Toggle stanza 1
ما بادهٔ ز خون دل خود می‌نوشیم
1

ما بادهٔ ز خون دل خود می‌نوشیم

در خم تن خویش چو می می‌جوشیم

2

جان را بدهیم و نیم از آن باده خوریم

سر را بدهیم و جرعه‌ای نفروشیم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…