رباعی شمارهٔ 950
Toggle stanza 1درد تو علاج کس پذیرد هرگز
11
درد تو علاج کس پذیرد هرگز
یا از تو مراد میگریزد هرگز
22
گفتی که نهال صبر در دل کشتی
گیرم که بکاشتم بگیرد هرگز؟
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

