رباعی شمارهٔ 950

Toggle stanza 1
درد تو علاج کس پذیرد هرگز
1

درد تو علاج کس پذیرد هرگز

یا از تو مراد میگریزد هرگز

2

گفتی که نهال صبر در دل کشتی

گیرم که بکاشتم بگیرد هرگز؟

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…