رباعی شمارهٔ 544
Toggle stanza 1ای آنکه نخست بر سحر چشم تو زد
11
ای آنکه نخست بر سحر چشم تو زد
وز با نمکی راه نظر چشم تو زد
22
آنکس که چو توتیاش عزت داری
آمد به طریق شکرم چشم توزد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

