رباعی شمارهٔ 361
شاعر: رومی
Toggle stanza 1عشقت به دلم درآمد و شاد برفت
11
عشقت به دلم درآمد و شاد برفت
بازآمد و رخت خویش بنهاد برفت
22
گفتم به تکلف دو سه روزی بنشین
بنشست و کنون رفتنش از یاد برفت
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

