رباعی شمارهٔ 1410

Toggle stanza 1
ای روی تو کعبهٔ دل و قبلهٔ جان
1

ای روی تو کعبهٔ دل و قبلهٔ جان

چون شمع ز غم سوختم ای شعلهٔ جان

2

بردار حجاب و رخ به عاشق بنمای

تا چاک زند به دست خود خرقهٔ جان

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…