رباعی شمارهٔ 1177
Toggle stanza 1بر زلف تو گر دست درازی کردم
11
بر زلف تو گر دست درازی کردم
والله که حقیقت نه مجازی کردم
22
من در سر زلف تو بدیدم دل خویش
پس با دل خویش عشقبازی کردم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

