رباعی شمارهٔ 854
Toggle stanza 1هستی اثری ز نرگس مست تو بود
11
هستی اثری ز نرگس مست تو بود
آب رخ نیستی هم از هست تو بود
22
گفتم که مگر دست کسی در تو رسد
چون به دیدم که خود همه دست تو بود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

