رباعی شمارهٔ 631

Toggle stanza 1
چشم تو هزار سحر مطلق دارد
1

چشم تو هزار سحر مطلق دارد

هر گوشه هزار جان معلق دارد

2

زلفت کفر است و دین رخ چون قمرست

از کفر نگر که دین چه رونق دارد

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…