رباعی شمارهٔ 1119
Toggle stanza 1از باد همه پیام او میشنوم
11
از باد همه پیام او میشنوم
وز بلبل مست نام او میشنوم
22
این نقش عجب که دیدهام بر در دل
آوازهٔ آن ز بام او میشنوم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

