رباعی شمارهٔ 633

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انکند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
جودت همه آن کند که دریا نکند
1

جودت همه آن کند که دریا نکند

این دم کرمت وعده به فردا نکند

2

حاجت نبود از تو تقاضا کردن

کز شمس کسی نور تقاضا نکند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…