رباعی شمارهٔ 633
Toggle stanza 1جودت همه آن کند که دریا نکند
11
جودت همه آن کند که دریا نکند
این دم کرمت وعده به فردا نکند
22
حاجت نبود از تو تقاضا کردن
کز شمس کسی نور تقاضا نکند
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

