رباعی شمارهٔ 607

Toggle stanza 1
تا رهبر تو طبع بدآموز بود
1

تا رهبر تو طبع بدآموز بود

بخت تو مپندار که پیروز بود

2

تو خفته به صبح و شب عمرت کوتاه

ترسم که چو بیدار شوی روز بود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…