رباعی شمارهٔ 1585

Toggle stanza 1
مردی یارا که بوی فقر آید از او
1

مردی یارا که بوی فقر آید از او

دانند فقیران که چها زاید از او

2

ولله که سماء و هرچه در کل سما است

یا بند نصیب هرچه میباید از او

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…