رباعی شمارهٔ 1585
Toggle stanza 1مردی یارا که بوی فقر آید از او
11
مردی یارا که بوی فقر آید از او
دانند فقیران که چها زاید از او
22
ولله که سماء و هرچه در کل سما است
یا بند نصیب هرچه میباید از او
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

