رباعی شمارهٔ 637
Toggle stanza 1چون دیده بر آن عارض چون سیم افتاد
11
چون دیده بر آن عارض چون سیم افتاد
جان در لب تو چو دیدهٔ میم افتاد
22
نمرود صفت ز دیدگان رفت دلم
در آتش سودای براهیم افتاد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

