رباعی شمارهٔ 1259
Toggle stanza 1صد نام زیاد دوست بر ننگ زدیم
11
صد نام زیاد دوست بر ننگ زدیم
صد تنگ شکر بدین دل تنگ زدیم
22
ای زهرهٔ ساقی دگرت لاف نماند
کز سور قرابهٔ تو بر سنگ زدیم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

