رباعی شمارهٔ 676
Toggle stanza 1در گریهٔ خون مرا شکر خند تو کرد
11
در گریهٔ خون مرا شکر خند تو کرد
بیبند مرا از این جهان بند تو کرد
22
میفرمائی که عهد و سوگند تو کو
بیعهد مرا نه عهد و سوگند تو کرد
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

