رباعی شمارهٔ 474
Toggle stanza 1آنرا که ز عشق دوست بیداد رسد
11
آنرا که ز عشق دوست بیداد رسد
از رحمت و فضل اوش امداد رسد
22
کوتاهی عمر بین به وصلم دریاب
تا پیش از اجل مرا به فریاد رسد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

