رباعی شمارهٔ 1422
Toggle stanza 1ای لعل لبت معدن شکر چیدن
11
ای لعل لبت معدن شکر چیدن
وز چشم تو نور نامصور دیدن
22
مه گردانست و برک که گردانست
فرقست بسی میان هر گردیدن
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

