رباعی شمارهٔ 924
Toggle stanza 1هر دم دل خستهام برنجاند یار
11
هر دم دل خستهام برنجاند یار
یا سنگدلست یا نمیداند یار
22
از دیده به خون نبشتهام قصهٔ خویش
میبیند و هیچ بر نمیخواند یار
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

