رباعی شمارهٔ 449

Toggle stanza 1
هرگز ز دماغ بنده بوی تو نرفت
1
هرگز ز دماغ بنده بوی تو نرفت
وز دیدهٔ من خیال روی تو نرفت
2
در آرزوی تو عمر بردم شب و روز
عمرم همه رفت و آرزوی تو نرفت

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…