رباعی شمارهٔ 449
Toggle stanza 1هرگز ز دماغ بنده بوی تو نرفت
11
هرگز ز دماغ بنده بوی تو نرفت
وز دیدهٔ من خیال روی تو نرفت
22
در آرزوی تو عمر بردم شب و روز
عمرم همه رفت و آرزوی تو نرفت
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

