رباعی شمارهٔ 1307
Toggle stanza 1ما برزگران این کهن دشت نویم
11
ما برزگران این کهن دشت نویم
در کشتهٔ شادی همه غم میدرویم
22
چون لالهٔ کم عمر در این دشت فنا
تا سر زده از خاک ببادی گرویم
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

