رباعی شمارهٔ 772

Toggle stanza 1
غم کیست که گرد دل مردان گردد
1

غم کیست که گرد دل مردان گردد

غم گرد فسردگان و سردان گردد

2

اندر دل مردان خدا دریائیست

کز موج خوشش گنبد گردان گردد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…