رباعی شمارهٔ 524

Toggle stanza 1
از لشکر صبرم علمی بیش نماند
1

از لشکر صبرم علمی بیش نماند

وز هرچه مرا بود غمی بیش نماند

2

وین طرفه تر است کز سر عشوه هنوز

دم میدمد و مرا دمی بیش نماند

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…