رباعی شمارهٔ 764
Toggle stanza 1عشق تو بهر صومعه مستی دارد
11
عشق تو بهر صومعه مستی دارد
بازار بتان از تو شکستی دارد
22
دست غم تو بهر دو عالم برسید
الحق که غمت درازدستی دارد
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

