رباعی شمارهٔ 764

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستیدارد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
عشق تو بهر صومعه مستی دارد
1

عشق تو بهر صومعه مستی دارد

بازار بتان از تو شکستی دارد

2

دست غم تو بهر دو عالم برسید

الحق که غمت درازدستی دارد

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…