رباعی شمارهٔ 1833
Toggle stanza 1چون جمله خطا کنم صوابم تو بسی
11
چون جمله خطا کنم صوابم تو بسی
مقصود از این عمر خرابم تو بسی
22
من میدانم که چون بخواهم رفتن
پرسند چه کردهای جوابم تو بسی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

