رباعی شمارهٔ 1657
Toggle stanza 1آن را که نکرد ز هر سود ای ساقی
11
آن را که نکرد ز هر سود ای ساقی
آن زهر نبود می نمود ای ساقی
22
چون بود رونده شد نبود ای ساقی
میها نوشد ز بحر جود ای ساقی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

