رباعی شمارهٔ 1657

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ودایساقی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
آن را که نکرد ز هر سود ای ساقی
1

آن را که نکرد ز هر سود ای ساقی

آن زهر نبود می نمود ای ساقی

2

چون بود رونده شد نبود ای ساقی

می‌ها نوشد ز بحر جود ای ساقی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…