رباعی شمارهٔ 815
Toggle stanza 1مردیکه به هست و نیست قانع گردد
11
مردیکه به هست و نیست قانع گردد
هست و عدم او را همه تابع گردد
22
موقوف صفات و فعل کی باشد او
کز صنع برون آید و صانع گردد
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

