رباعی شمارهٔ 189
Toggle stanza 1ای دل تا ریش و خسته میدارندت
11
ای دل تا ریش و خسته میدارندت
دیوانه و پای بسته میدارندت
22
مانندهٔ دانهای که مغزی داری
پیوسته از آن شکسته میدارندت
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

