رباعی شمارهٔ 1122

Toggle stanza 1
از بهر تو صد بار ملامت بکشم
1

از بهر تو صد بار ملامت بکشم

گر بشکنم این عهد غرامت بکشم

2

گر عمر وفا کند جفاهای ترا

در دل دارم که تا قیامت بکشم

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…