رباعی شمارهٔ 914

Toggle stanza 1
گوش ما را بی‌دم اسرار مدار
1

گوش ما را بی‌دم اسرار مدار

چشم ما را بی‌رخ دلدار مدار

2

بزم ما را بی‌می خمار مدار

ما را نفسی بیخودت ای یار مدار

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…