رباعی شمارهٔ 916
Toggle stanza 1مائیم چو حال عاشقان زیر و زبر
11
مائیم چو حال عاشقان زیر و زبر
وز دلبر ما هر دو جهان زیر و زبر
22
از زیر و زبر منزه آمد شه ما
وانکس که از او جست نشان زیر و زبر
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

