رباعی شمارهٔ 1984

Toggle stanza 1
هرگز نَبُوَد میلِ تو کافراشت کُنی
1

هرگز نَبُوَد میلِ تو کافراشت کُنی

تا عاشق آنی که فروداشت کُنی

2

بِسْم‌ِ الله ناگفته تو گویی الحمد

ناآمده صبح از طمع، چاشت کُنی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…