رباعی شمارهٔ 1984
Toggle stanza 1هرگز نَبُوَد میلِ تو کافراشت کُنی
11
هرگز نَبُوَد میلِ تو کافراشت کُنی
تا عاشق آنی که فروداشت کُنی
22
بِسْمِ الله ناگفته تو گویی الحمد
ناآمده صبح از طمع، چاشت کُنی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

