رباعی شمارهٔ 1588
Toggle stanza 1نی هرکه کند رقص و جهد بالا او
11
نی هرکه کند رقص و جهد بالا او
در فقر بود گزیده و والا او
22
مسجود ملک تا نشود چون آدم
عالم نشود به عالم اسما او
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

