رباعی شمارهٔ 1905
Toggle stanza 1عشقت صنما چه دلبریها کردی
11
عشقت صنما چه دلبریها کردی
در کشتن بنده ساحریها کردی
22
بخشی همه عشقت به سمرقند دلم
آگاه نی چه کافریها کردی
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

