رباعی شمارهٔ 1905

Toggle stanza 1
عشقت صنما چه دلبریها کردی
1

عشقت صنما چه دلبریها کردی

در کشتن بنده ساحریها کردی

2

بخشی همه عشقت به سمرقند دلم

آگاه نی چه کافریها کردی

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…