رباعی شمارهٔ 1643
Toggle stanza 1مستم ز می عشق خراب افتاده
11
مستم ز می عشق خراب افتاده
برخواسته دل از خور و خواب افتاده
22
در دریائی که پا و سر پیدا نیست
جان رفته و تن بر سر آب افتاده
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

