رباعی شمارهٔ 1643

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابافتاده

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
مستم ز می عشق خراب افتاده
1

مستم ز می عشق خراب افتاده

برخواسته دل از خور و خواب افتاده

2

در دریائی که پا و سر پیدا نیست

جان رفته و تن بر سر آب افتاده

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…