رباعی شمارهٔ 952
Toggle stanza 1دل آمد و گفت هست سوداش دراز
11
دل آمد و گفت هست سوداش دراز
شب آمد و گفت زلف زیباش دراز
22
سرو آمد و گفت قد و بالاش دراز
او عمر عزیز ماست گو باش دراز
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

