رباعی شمارهٔ 952

Toggle stanza 1
دل آمد و گفت هست سوداش دراز
1

دل آمد و گفت هست سوداش دراز

شب آمد و گفت زلف زیباش دراز

2

سرو آمد و گفت قد و بالاش دراز

او عمر عزیز ماست گو باش دراز

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…