رباعی شمارهٔ 1560
Toggle stanza 1ترکی که دلم شاد کند خندهٔ او
11
ترکی که دلم شاد کند خندهٔ او
دارد به غمم زلف پراکندهٔ او
22
بستد ز من او خطی به آزادی خویش
آورد خطی که من شدم بندهٔ او
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

