رباعی شمارهٔ 1560

Toggle stanza 1
ترکی که دلم شاد کند خندهٔ او
1

ترکی که دلم شاد کند خندهٔ او

دارد به غمم زلف پراکندهٔ او

2

بستد ز من او خطی به آزادی خویش

آورد خطی که من شدم بندهٔ او

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…