رباعی شمارهٔ 942
Toggle stanza 1امروز خوشم به جان تو فردا نیز
11
امروز خوشم به جان تو فردا نیز
هم آبم و هم گوهرم و دریا نیز
22
هم کار و گیای دوست کارافزا نیز
هر لاف که دل زند بگویم ما نیز
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

