رباعی شمارهٔ 999
Toggle stanza 1اندر بر خویشم بفشاری همه خوش
11
اندر بر خویشم بفشاری همه خوش
بر راه زنان مرگ گماری همه خوش
22
چون مرگ دهی از پس آن برگ دهی
از مرگ حیاتها برآری همه خوش
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

