رباعی شمارهٔ 520

Toggle stanza 1
از شبنم عشق خاک آدم گل شد
1

از شبنم عشق خاک آدم گل شد

صد فتنه و شور در جهان حاصل شد

2

سر نشتر عشق بر رگ روح زدند

یک قطره از آن چکید و نامش دل شد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…