رباعی شمارهٔ 520
Toggle stanza 1از شبنم عشق خاک آدم گل شد
11
از شبنم عشق خاک آدم گل شد
صد فتنه و شور در جهان حاصل شد
22
سر نشتر عشق بر رگ روح زدند
یک قطره از آن چکید و نامش دل شد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

