رباعی شمارهٔ 1794

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انیباشی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
با نااهلان اگر چو جانی باشی
1

با نااهلان اگر چو جانی باشی

ما را چه زیان تو در زیانی باشی

2

گیرم که تو معشوق جهانی باشی

آری باشی، ولی زمانی باشی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…