رباعی شمارهٔ 1794
Toggle stanza 1با نااهلان اگر چو جانی باشی
11
با نااهلان اگر چو جانی باشی
ما را چه زیان تو در زیانی باشی
22
گیرم که تو معشوق جهانی باشی
آری باشی، ولی زمانی باشی
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

