رباعی شمارهٔ 849
Toggle stanza 1هرگز حق صحبت قدیمت نبود
11
هرگز حق صحبت قدیمت نبود
واندیشهٔ این سیه گلیمت نبود
22
بر دیده نشینی و بدل درباشی
ور آتش و آب هیچ بیمت نبود
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

