رباعی شمارهٔ 849

Toggle stanza 1
هرگز حق صحبت قدیمت نبود
1

هرگز حق صحبت قدیمت نبود

واندیشهٔ این سیه گلیمت نبود

2

بر دیده نشینی و بدل درباشی

ور آتش و آب هیچ بیمت نبود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…