شمارهٔ 119
شاعر: رودکی
Toggle stanza 1ای غافل از شمار! چه پنداری؟
11
ای غافل از شمار! چه پنداری؟
کت خالق آفرید پی کاری؟!
22
عمری که مر توراست سرمایه
وید است و کارهات به این زاری!
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

