شمارهٔ 119

شاعر: رودکی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیلن (مضارع مسدس اخرب مکفوف)

قافیہ: اری

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قصیده

Toggle stanza 1
ای غافل از شمار! چه پنداری؟
1

ای غافل از شمار! چه پنداری؟

کت خالق آفرید پی کاری؟!

2

عمری که مر توراست سرمایه

وید است و کارهات به این زاری!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…